علی گڑھ، 28؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مغلیہ عہدسے ہی اپنی فولادی مصنوعات کے لیے دنیابھر میں مشہور علی گڑھ کی تالا صنعت نوٹ بند ی کے بعد تقریبا بند ہونے کے دہانے پر ہے اور اس سے جڑے ایک لاکھ سے زیادہ کاریگروں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔دہلی سے محض 150کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ’تالا نگری‘علی گڑھ میں ملک کے کل تالوں کے 75فیصد حصے کی صنعت ہے اور یہاں کا ’علی گڑھی تالا‘دنیا میں اپنی مضبوطی کے لیے خاص طور پر مشہور ہے۔تالا نگری انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سنیل دتہ نے میڈیا کو بتایا کہ نوٹ بند ی کے بعد علی گڑھ کی تالا صنعت بھی بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ اس کا زیادہ تر کاروبار نقد میں ہوتا تھا اور 500اور ہزار روپے کے نوٹوں کا چلن اچانک بند ہو جانے سے چیزیں جہاں-تہاں رک گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بینک فی الحال اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ تالا صنعت کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے کافی نقد رقم مہیا کرا سکیں، حکومت کیس لیس لین دین کو فروغ دینے کی بات تو ضرور کر رہی ہے لیکن اتنے کم وقت میں نقد رقم پر منحصر معیشت کو نقد ی سے آزاد نہیں بنایا جا سکتا،تاہم تالا صنعت پر تالا لگانے کے لیے اتنا وقت کافی ہے۔سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی اور اب تحلیل ہو چکے آل انڈیا لاک مینو فیکچرس ایسوسی ایشن کے سابق صدر ظفر عالم کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ضلع کے 90فیصد کاٹیج اور چھوٹی صنعت یا تو بند ہو چکی ہیں، یا پھر بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں تقریبا ایک لاکھ لوگ اپنی روزی ر وٹی کے لیے تالے کی صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے بے روزگار ہو جانے کے تصور سے ہی ڈر لگتا ہے۔